تر دماغی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تازگی، سرور، نیم مدہوشی کی حالت، ہلکی مستی، رنگیلا پن۔ "فرح سیر اور محمد اشہ کے عہد کی تر دماغیاں دراصل اسی عالمگیری خشک مزاجیوں کا ردعمل تھا۔"      ( ١٩٤٣ء، غبار خاطر، ٣٣٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'تر' کے ساتھ عربی زبان ماخوذ اسم صفت 'دماغی' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٤٦ء میں "کلیات آتش" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تازگی، سرور، نیم مدہوشی کی حالت، ہلکی مستی، رنگیلا پن۔ "فرح سیر اور محمد اشہ کے عہد کی تر دماغیاں دراصل اسی عالمگیری خشک مزاجیوں کا ردعمل تھا۔"      ( ١٩٤٣ء، غبار خاطر، ٣٣٢ )

جنس: مؤنث